Voicepk.netVoicepk.netVoicepk.net
Font ResizerAa
  • News
    • National
    • Punjab
    • Sindh
    • Khyber Pakhtunkhwa
    • Federal Territory
    • Gilgit-Baltistan
    • Balochistan
    • Azad Jammu Kashmir
    • World
  • Exclusive Shows
    • Frontline Pakistan
    • Rights Watch
  • In Focus
    • Opinion
    • Features
    • Webinars
  • Climate Watch
  • Exclusives
    • Documentaries
    • Rights Guide
  • Events
    • AJCONF
    • Other
  • About Us
    • AGHS Legal Aid Cell
    • Our Team
    • Contact
  • اردو ویب سائٹ
Reading: چاغی واقعے پر جوڈیشل کمیشن بننے تک وفاقی حکومت کا حصے نہیں بنیں گے: اختر مینگل
Share
Font ResizerAa
Voicepk.netVoicepk.net
  • News
  • Exclusive Shows
  • In Focus
  • Climate Watch
  • Exclusives
  • Events
  • About Us
  • اردو ویب سائٹ
Search here....
  • News
    • National
    • Punjab
    • Sindh
    • Khyber Pakhtunkhwa
    • Federal Territory
    • Gilgit-Baltistan
    • Balochistan
    • Azad Jammu Kashmir
    • World
  • Exclusive Shows
    • Frontline Pakistan
    • Rights Watch
  • In Focus
    • Opinion
    • Features
    • Webinars
  • Climate Watch
  • Exclusives
    • Documentaries
    • Rights Guide
  • Events
    • AJCONF
    • Other
  • About Us
    • AGHS Legal Aid Cell
    • Our Team
    • Contact
  • اردو ویب سائٹ
Follow US
Archive

چاغی واقعے پر جوڈیشل کمیشن بننے تک وفاقی حکومت کا حصے نہیں بنیں گے: اختر مینگل

6 Min Read

اپریل ٢٠ ٢٠٢٢

تحریر احمد سعید


لاہور

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ اور حال ہی میں بننے والی کثیر الجماعتی حکومت کے اتحادی اختر مینگل کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت اس وقت تک شہباز شریف حکومت کا حصہ نہیں بنے گی گی جب تک چاغی اور نو کنڈی میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے فائرنگ کے واقعات کی جوڈیشل انکوائری کروا کر ذمے دران کو قانون کے مطابق سزا نہیں دی جاتی.
آج نیوز کے پروگرام سپاٹ لائٹ میں صحافی منیزے جہانگیر سے بات کرتے ہوئے اختر مینگل کا کہنا تھا وزیر اعظم شہباز شریف نے انھیں کابینہ میں شامل ہونے کے لئے اصرار کیا تھا مگر انہوں نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے بغیر وزارتوں کا حلف اٹھانے سے معذرت کر لی ہے کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وزارتوں سے بلوچستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے.
چاغی کے حالات کشیدہ کیوں؟
بلوچستان کے ضلع چاغی میں حالات تاحال کشیدہ ہیں اور اس کی وجہ چودہ اپریل کو پاک افغان سرحد کے قریب  پیش آنے والا ایک واقعہ ہے جس میں ایف سی نے ایک چیک پوسٹ پر نہ رکنے پر ایک ٹرک ڈرائیور حمید اللہ  کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا.
کچھ مقامی افراد نے یہ بھی دعوی  اس کے بعد ایف سی نے سرحد کی جانب جانے والے کچھ  ٹرکوں کے ٹائروں کو گولیاں مار کر ناکارہ بنا دیا اور ان ریڈی ایٹر میں ریت ڈال دی تھی. اس وجہ سے ٹرک ڈرائیورز صحرا میں پھنس گے اور بھوک اور پیاس کی شدت  سے کچھ ڈرائیورز ہلاک ہو گے تھے. تاہم آزاد ذرائع   نے اس دعوی سے تصدیق نہیں کی.
چاغی واقعے کے خلاف  اٹھارہ اپریل پیر کے روز نوکنڈی میں مقامی افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس پر ایف سی کے اہلکاروں نے فائرنگ کر دی جس میں کم از کم سات افراد زخمی ہو گے تھے.  اس واقعے کے خلاف بی این پی مینگل کے سربراہ اختر مینگل  نے شدید احتجاج کیا تھا اور ایک ٹویٹ میں یہ کہا تھا ان کی ترجیح بلوچستان اور اس کی عوام ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا.
‘تحریک انصاف بلوچستان کے مسائل کے حل میں سنجیدہ نہیں تھی’
اختر مینگل نے سپاٹ لائٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ان کے آج بھی حکومت سے کم و بیش وہ ہی مطالبات ہیں جو انہوں نے دو ہزار اٹھارہ میںپاکستان تحریک انصاف حکومت کی حمایت کے وقت چھ نکات کی صورت میں پیش کے تھے. اختر مینگل کا کہنا تھا تحریک انصاف کی حکومت بلوچستان کے مسائل میں سنجیدہ  نہیں تھی اور اس نے مسائل کے حل کے لئے کو کمیٹی قائم کی تھی اس کا ایک بھی اجلاس نہیں ہو سکا تھا.
 واضح رہے کہ اختر مینگل جون دو ہزار بیس میں اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کی حمایت  سے دستبردار ہو گے تھے. بی این پی مینگل نے تحریک انصاف کی حکومت میں بھی وزارتیں لینے نے ان کر کر دیا تھا.
‘اگر بلوچستان کے مسائل کے حل اختیار نہیں تو اسے ایک مقبوضہ علاقہ قرار دے دیں’
اس سوال کے جواب میں کہ کیا وفاقی حکومت کے پاس بلوچستان کے مسائل کے حل کا اختیار موجود ہے بھی یا نہیں اختر مینگل کا کہنا تھا کہ بلوچستان پاکستان کا حصہ ہے اور اسے بھی ویسے ہی ٹریٹ کرنا چاہئے جیسے دوسرےصوبوں کو کیا جاتا. ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو پھر یہ کھل کر کہ دیا جاے کہ بلوچستان ایک مقبوضہ علاقہ ہے اور پھر نہ ہم آپ سے کچھ مانگیں  گے اور نہ ہی کچھ امید رکھیں گے.
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگ ہمیں غدار اور پاکستان کا وفادار کہہ رہے ہیں اگر ہم پارلیمانی سیاست سے مایوس ہوگئے تو ہمارے پاس کونساراستہ بچے گا.
‘الیکٹڈ حکومت سے زیادہ امیدیں ہیں’
اختر مینگل کا کہنا تھا کہ ان کو اس حکومت سے زیادہ امیدیں اس لئے ہیں کیوں کہ یہ ایک سلیکٹڈ کی بجاۓ ایک الیکٹڈ حکومت ہے. تاہم ان کا کہنا تھا عمران کی حکومت لانے کے گناہ میں وہ بھی حصے دار تھے. و  کا مزید کہنا تھا بلوچستان میں بہت عرصے سے سلیکٹڈ حکومتوں کو لایا جاتا رہا ہے.
بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی کے حوالے سے اختر منگل کا موقف تھا کہ اگر وہاں کی اسمبلی میں کوئی ایسی تحریک آتی ہے  تب  وہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر یہ سوچیں گے کہ کیا وہ لوگ کوئی بہتر تبدیلی لا بھی سکتے ہیں یا نہیں.
چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بی این پی مینگل کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس  حوالے سے پی ڈی ایم میں کوئی بات نہیں ہے  اور اگر ان انھیں  صدر کے  عہدے کے حوالے سے کوئی آفر ہوئی تو بھی قبول نہیں کریں گے کیوں کہ صدر بننا ان کے مرحوم والد کی نصحیت کے خلاف ہوگا.

کورونا وائرس: سپریم کورٹ وفاقی حکومت پر برہم، ظفر مرزا کے خلاف سخت ریمارکس
Rights Watch | 24 Oct 2023
Rights Watch | November 13th 2020
ATC grants police custody of social activist Muhammad Ismail for 3 days
ILM Conference participants term SNC threat to critical thought
Share This Article
Facebook Email Print
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow Us

OUR SOCIALS
Facebook Twitter Instagram Youtube Tiktok Whatsapp

Journalism for Human Rights in Pakistan

Voicepk.net

About Us

Voicepk.net is Pakistan ‘s first digital media platform dedicated to investigating, reporting & broadcasting human rights and legal issues happening in the country.
Read More...

Quick Link
  • Home
  • About Us
  • Our Team
  • Contact
  • Privacy Policy
© 2026. All Rights Reserved by VoicePk.net
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?