قبائلی ضلع خیبر کے علاقے چاروازگئی میں پاک افغان شاہراہ پر سیاسی اتحاد کا دھرنا دس روز تک رہا، جسکا مقصد پشاور ریگی میں سی ٹی ڈی کے مبینہ آپریشن میں ہلاک کئے جانے والے خاصہ دار فورس کے اہلکار عدنان شنواری کے قتل کے لئے انصاف کا حصول تھا۔

اسی طرح کا ایک احتجاج گذشتہ ہفتے پشاور اور چارسدہ میں بھی ہوا۔ پشاور میں مقتول کے اہلخانہ کا موقف تھا کہ مقتول منصف خان ایس ایچ او تھانہ شرقی پشاور کا گن مین تھا۔ ایک ماہ قبل اُسے اٹھایا گیا اور پھر اچانک ریگی میں مبینہ مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا۔ اسی طرح چارسدہ میں مظاہرین کا کہنا تھا کہ سید عزیز اللہ عرف سالار ظہیر اللہ کو دو ماہ قبل گھر سے اٹھایا گیا تھا اور پھر ریگی میں لاش کا ملنا۔۔۔ یہ کوئی پہلا آپریشن نہیں کہ جسکا آخری سرا دھندلا دیا گیا ہو۔

اس سے قبل پشاور کے علاقے حیات آباد میں گھر کے اندر ہونے والا آپریشن اور اس سے وابستہ ہر نشان کو دھماکہ خیز مواد سے اُڑانے کا معمہ آج بھی معمہ ہی ہے۔ لیکن جس طرح معاملات ہو رہے ہیں کہانی مزید پیچیدہ ہوتی جارہی ہے، کیونکہ اس قتل مقاتلے کی کہانی میں کرداروں کا اضافہ اب معمول بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی ریگی آپریشن والی خبر کی دھول جمی نہیں تھی کہ سوات میں آپریشن کے دوران فوج کے ساتھ مل کر کارروائیوں میں حصہ لینے والے امن کمیٹی کے رکن جاوید اللہ خان کو نامعلوم افراد نے دریائے سوات کے کنارے شکردرہ میں کھیتوں سے گھر واپس آتے ہوئے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا، جس سے جاوید اللہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ واقعے کے وقت جاوید اللہ خان کی سیکورٹی پر مامور پولیس سیکورٹی گارڈ رحیم اللہ خان بھی اُس کے ساتھ موجود تھا اور پولیس کے بیان کے مطابق اُس نے جوابی فائرنگ بھی کی، لیکن ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ جاوید اللہ نے سوات آپریشن میں نہ صرف اپنے گھر کے دروازے فوج کے لیے کھول دیتے تھے بلکہ لوگوں سے بھی کہتے تھے کہ فوج کا ساتھ دیں۔ فوج کے اہلکار اُن کی تعریف کرتے تھے اور اُن کو اپنا میجر قرار دیتے تھے۔ اور اب یہ میجر بھی نہ رہا۔ کس نے اور کیوں اُسے مار دیا، یہ ایک ایسا سوال ہے جسکا جواب اس کے خاندان کی گذشتہ 13 لاشوں کے ملنے کے وقت بھی نہ مل سکا۔

کہانی صرف یہی ہی نہیں بلکہ اگر ہم سوات اور ڈیرہ اسماعیل خان کی بات کریں، جو کہ دہشت گردی کا گڑھ رہے، وہاں ایک بار پھر معاملات پیچیدہ نظر آتے ہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں گذشتہ سال میں دہشت گردی کے 14 واقعات ہوئے جن میں 18 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے۔ اسی طرح کے حالات دیر، سوات اور بونیر سمیت مختلف علاقوں کے ہیں۔ حتیٰ کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی چھوٹے چھوٹے دستی بم دھماکوں کی کہانی پھر شروع ہو گئی ہے۔ جبکہ شمالی وزیرستان کی کہانی تو کچھ زیادہ ہی پیچیدہ ہے جہاں لاشیں ملنا اب معمول بن گیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں نامعلوم افراد کی طرف سے قتل مقاتلے کا سلسلہ گذشتہ سال بڑھ گیا تھا لیکن وہاں سے آنے والی خبروں پر پابندی یا نشر نہ کرنے کی روایت کی وجہ سے وہاں کے معاملات اکثر نظروں سے اوجھل کر دئیے جاتے ہیں۔

ایک طرف خیبر پختونخوا میں اچانک شروع ہونے والا یہ قتل مقاتلہ تو دوسری طرف سرحد پار افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال ہے جسکو کسی صورت نظر انداز کرنا ممکن نہیں، کیونکہ کہانی تو ابھی شروع ہو ئی ہے۔ افغانستاں میں داعش کی موجودگی کے حوالے سے انکشاف میں کہا گیا ہے کہ اس وقت افغانستان میں دس ہزار داعشی جمع ہو چکے ہیں، جن کا تعلق دنیا کے مختلف ممالک سے ہے۔ اسی طرح وہاں موجود خراسان گروپ اور سب سے بڑھ کر افغانستان کے مختلف دھڑوں میں نااتفاقی کا عنصر جسکا اظہار امن معاہدے کے روز افغان صدر اشرف غنی کی پریس کانفرنس میں دبے لفظوں میں نظر آیا۔۔۔ کیا سب کچھ اتنا ہی سادہ ہے جتنا ہم دیکھ رہے ہیں یا ہمیں دکھایا جارہا ہے، یا پھر پردے کے پیچھے کی کہانی کا آغاز ابھی باقی ہے کیونکہ قتل کئے جانے والوں میں سے اکثر وہی ہیں جو کچھ جانتے تھے۔