١٠جنوری ٢٠٢١

اسٹاف رپورٹ


لاہور
مری میں سات اور آٹھ دسمبر کی درمیانی رات  پیش آنے والے سانحے میں  ہلاک ہونے والے بیس سے زیادہ افراد کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے مگر اس انسانی المیے کے محرکات اور پس پردہ حقائق جاننے کے لئےبحث اب بھی جاری ہے.  معاملے کی تحقیقات اور ذمے داروں کا تعین کر نے کے لئے وزیر اعلی پنجاب نے ایک اعلی  سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے
 
حکومتی معاملات پر نظر رکھنے والے صحافیوں کی رائے یہ ہی ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی کمیٹی چند انتظامی افسران بالخصوص اسسٹنٹ کمشنز مری اور ڈی سی راولپنڈی کو ان کے عہدوں سے ہٹانے کی سفارش کر دے گی
 
تاہم مری کے مقامی افراد کے مطابق اس  سانحے کی بنیادی وجہ مقامی حکومتوں کا غیر فعال ہونا اور انتظامیہ میں موجود لوگوں کا مقامی حالات اور واقعات سے لاعلم ہونا ہے

اگر مقامی حکومتیں ہوتی تو سانحہ مری پیش نہ آتا

سیف اللہ عباسی، جو کے اسی یونین کونسل کے رہائشی ہیں جہاں پر لوگوں کی گاڑیوں میں دم گھٹنے کے باعث ہلاکتیں ہوئی کا کہنا تھا کہ جس راستے پر سیاح پھنس گئے تھے وہ علاقہ مقامی زبان میں ٹھڈا چنگڑ  یعنی ٹھنڈا جنگل کہلاتا ہے  اور وہاں ہمیشہ بھاری برف پڑتی ہے بلکہ مئی جون میں بھی جنگل کی تہہ سے برف نہیں پگھلتی. ان کا کہنا تھا کہ مری میں ہر چند ماہ بعد انتظامی افسران کو تبدیل کر دیا جاتا ہے جس وجہ سے ان کو مقامی حالات کے بارے میں آگاہی نہیں ہو پاتی اور پھر وہ صحیح انداز سے بروقت فیصلے نہیں لے پاتے.
 
واضح رہے کہ  مری میں دو ہزار اٹھارہ کے بعد سے اب تک پانچ سے چھ اسسٹنٹ کمشنز تعینات ہو چکے ہیں جب کہ موجودہ اسسٹنٹ کمشنز عمر مقبول کو تعینات ہوئے ابھی صرف تین مہینے ہی ہوئے ہیں. اس کے علاوہ  دو ہزار اٹھارہ کے بعد سے اب تک  چار دفعہ  ایس ڈی او مشینری، جن کا کام سڑکوں کی بحالی اور صفائی ہوتا ہے، کو بھی تبدیل کیا جا چکا ہے
 
اس حوالے سے مقامی صحافی عبدالحمید کا کہنا تھا کہ مقامی حکومتوں’کے غیر فعال ہونے سے مری کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ باہر سے آنے والے افسران مقامی پیچیدگیوں سے واقفیت نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کو دستیاب وسائل کو بہتر انداز سے استعمال کرنے کا اندازہ ہوتا ہے. ان کا کہنا تھا کہ جب بھی مقامی حکومتوں کا دور ہوتا ہے مری کے معاملات بہت بہتر انداز سے چلتے ہیں اور جب سرکاری افسران کو  ایڈمنسٹریٹر لگایا جاتا ہے تو  مری مسائل کی آماج گاہ بن جاتا ہے جس سے سیاحت کے شعبے کو بھی نقصان پہنچتا ہے
 
عبدالحمید کا مزید کہنا تھا کہ جو افسران بھی آتے ہیں ان کا زیادہ تر فوکس مری کے سیاحتی مقامات پر ہوتا ہے اور ان کے خیال میں ایسے مقامات کی تزئین اور آرائش ہی مری کے اصل مسائل ہیں  اور ان کو دور دراز کے علاقوں کے حوالے سے کوئی آگاہی ہوتی ہے اور نہ ہی دل چسپی

 مری کے معاملات مقامی حکومت ہی چلا سکتی ہے

خورشید عباسی جو کے دو ہزار ایک سے لے کر دو ہزار پانچ تک تحصیل ناظم مری رہ چکے ہیں کا کہنا ہے کہ اگر مری میں اب بھی مقامی حکومتوں کا نظام موجود ہوتا تو شاید اس سانحے کو رونما ہونے سے روکا جا سکتا تھا. ان کا کہنا تھا کہ مقامی شخض کو بہت بہتر علم ہوتا ہے کہ کس کس مقام پر زیادہ برفباری ہو سکتی ہے اور وہ اس لحاظ سے مشینری کو تعینات کر سکتا ہے
 
سابق تحصیل ناظم مری سردار سلیم کے بھائی اور پاکستان تحریک انصاف کے رکن سردار بلال کا بھی  یہ ہی موقف ہے کہ مقامی حکومتوں کا غیر فعال ہونا موجودہ سانحے کی سب سے اہم وجہ ہے. ان کا کہنا تھا کہ مری کے معاملات پیچیدہ ہوتے ہیں اور اس شہر کو بہتر انداز سے چلانے کے لئے ضروری ہے کہ یہاں کے معاملات منتخب حکومتوں کے ہی حوالے کے جانے چاہئیں
اس سوال کے جواب میں کہ آخر دو ہزار اٹھارہ سے لے کر اب تک اتنے اسسٹنٹ کمشنرز کو کیوں تبدیل کیا گیا،   سردار بلال کا کہنا تھا کہ مری میں بہت زیادہ ترقیاتی کام جاری ہیں اور اس حوالے مختلف لوگوں شکایات رہتی ہیں اس لئے بار بار  اسسٹنٹ کمشنرز تبدیل کرنا پڑ رہا ہے. تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ جب تک کوئی افسر مقامی مسائل سے صیح طریقے سے آگاہی حاصل کرتا ہے اس کو کسی نہ کسی وجہ سے تبدیل کر دیا جاتا ہے جس سے انتظامی مسائل بہت بڑھ گے ہیں

مقامی انتظامیہ مقامی عوامی نمائندوں کے پاس ہی ہونی چاہئے: سابق چیف سیکرٹری

افسران کے بار بار تبادلوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سابق چیف سیکرٹری پنجاب نوید اکرم چیمہ کا کہنا ہے کہ اصولی طور پر تو انتظامی افسران کے عہدے کی مدت تقریباً تین سال ہوتی ہے اور اس کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے وہ افسر بہتر انداز سے عوامی مسائل کو سمجھ کر انھیں حل کر سکے مگر ایسا ہو نہیں پاتا
 
واضح رہے کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نے دو ہزار بارہ میں انیتا تراب کیس میں یہ حکم بھی دیا تھا کہ جن عہدوں کی مدت ملازمت قانون میں درج ہو، ان پر تعینات افسران کو بغیر وجہ بتاے نہیں ہٹایا جا سکتا 
 
 نوید اکرم چیمہ کا مزید کہنا تھا کہ مقامی انتظامیہ کو بہتر انداز میں چلانے کے لئے لازمی ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کے ماتحت ہوں اور کوئی عوامی نمائندہ ہی مقامی وسائل کو استعمال کریں.   ان کا کہنا تھا اس سارے نظام کا اصل مقصد تو عوامی خدمت کرنا ہی ہوتا ہے اور یہ بات تو اب ساری دنیا میں تسلیم کر لی گی ہے کہ مضبوط مقامی حکومتوں کے بغیر انتظامیہ مقامی مسائل حل نہیں کر سکتی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here