Voicepk.netVoicepk.netVoicepk.net
Font ResizerAa
  • News
    • National
    • Punjab
    • Sindh
    • Khyber Pakhtunkhwa
    • Federal Territory
    • Gilgit-Baltistan
    • Balochistan
    • Azad Jammu Kashmir
    • World
  • Exclusive Shows
    • Frontline Pakistan
    • Rights Watch
  • In Focus
    • Opinion
    • Features
    • Webinars
  • Climate Watch
  • Exclusives
    • Documentaries
    • Rights Guide
  • Events
    • AJCONF
    • Other
  • About Us
    • AGHS Legal Aid Cell
    • Our Team
    • Contact
  • اردو ویب سائٹ
Reading: پریانتھا کمارا کی بیوہ کا اپنے بیٹوں کی بہتر پرورش کے لئے حکومت پاکستان سے معاوضے کا مطالبہ
Share
Font ResizerAa
Voicepk.netVoicepk.net
  • News
  • Exclusive Shows
  • In Focus
  • Climate Watch
  • Exclusives
  • Events
  • About Us
  • اردو ویب سائٹ
Search here....
  • News
    • National
    • Punjab
    • Sindh
    • Khyber Pakhtunkhwa
    • Federal Territory
    • Gilgit-Baltistan
    • Balochistan
    • Azad Jammu Kashmir
    • World
  • Exclusive Shows
    • Frontline Pakistan
    • Rights Watch
  • In Focus
    • Opinion
    • Features
    • Webinars
  • Climate Watch
  • Exclusives
    • Documentaries
    • Rights Guide
  • Events
    • AJCONF
    • Other
  • About Us
    • AGHS Legal Aid Cell
    • Our Team
    • Contact
  • اردو ویب سائٹ
Follow US
Archive

پریانتھا کمارا کی بیوہ کا اپنے بیٹوں کی بہتر پرورش کے لئے حکومت پاکستان سے معاوضے کا مطالبہ

5 Min Read
Family of lynched Sri Lankan man

جمعہ کو سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے ہاتھوں قتل ہونے والے سری لنکا کے ایکسپورٹ مینیجر پریانتھا کمارا کی بیوہ نیلوشی کمارا نے پاکستانی حکومت سے اپنے شوہر کے قتل پر انصاف اور معاوضے کی اپیل کی ہے، اور پاکستانی سرزمین پر موجود تمام سری لنکن باشندوں کی حفاظت کرنے پر زور دیا ہے۔

ایک سرلنکن اخبار سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا وہ اس بات کا جواب چاہتی ہیں کہ سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم نے ان کے شوہر کو اس قدر غیر انسانی طریقے سے کیوں قتل کیا اور وہ اپنے دو بیٹوں، جن کی عمر 14 اور 9 سال ہے، کے مستحکم مستقبل کے لیے معاوضہ چاہتی ہیں۔

پریانتھا کمارا کی میت آج ایک خصوصی پرواز کے ذریعے لاہور سے سری لنکا پہنچائی جاے گی۔

نیلوشی کا قتل کے مناظر کو سوشل میڈیا سے ہٹانے کا مطالبہ

نیلوشی نے کل سری لنکا کے دفاعی سکریٹری کمل گونارتنے سے ملاقات کی تھی، جس میں انہوں نے اپنے شوہر کے بہیمانہ قتل کی ویڈیوز اور تصاویر کو ہٹانے کے لیے دفاعی حکام سے مداخلت کی درخواست کی ہے، اور یہ کہا ہے کہ ان مناظر سے ان کا خاندان اور بچے متاثر ہو رہے ہیں۔

مجھ میں یہ ویڈیوز دیکھنے کی ہمت نہیں ہوئی کیونکہ یہ میرے شوہر کے آخری لمحات ہیں۔ میں سبھی سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ”i ان ویڈیوز اور تصاویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا بند کر دیں اور انہیں انٹرنیٹ سے ہٹانے کے لیے دفاعی حکام سے مداخلت کی درخواست کی ہے،میرا گھر فی الحال ایک میت والا گھر ہے۔ لیکن لوگ یہ ویڈیوز ہمیں آگے بھیجتے ہیں۔ ہم اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔”۔

‘میرے شوہر واحد کمانے والے تھے’

نیلوشی پہلے خود بھی ایک اسکول میں بطور ٹیچر نوکری کرتی تھیں، مگر اپنے شوہر کے بیرون ملک ملازمت کی وجہ سے انہوں نے وہ نوکری چھوڑ دی تھی اور اپنے بچوں کی پرورش میں مصروف تھی۔

نیلوشی مزید کہتی ہیں کہ انھیں اب اپنے دو بیٹوں کے مستقبل کی حفاظت کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا شوہر خاندان کا واحد کمانے والا تھا۔ پریانتھا کمارا گزشتہ 11 سال سے پاکستان میں ملازم تھا اور گزشتہ 9 سال سے اس فیکٹری میں ملازم تھا، جہاں کے ورکرز نے اسے توہین مذہب کے الزام میں قتل کر کے اس کی لاش کو نظر آتش کر دیا تھا۔

تاہم نیلوشی توہین مذہب کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ان کے شوہر ایک معصوم فرد تھے جو اپنے ملازمین اور ساتھیوں کا خیال رکھتا تھا۔ “وہ پاکستانی قوانین کا احترام کرتے تھے اور ایک امن پسند شہری کے طور پر رہتے تھے۔ وہ تمام مذہبی نظریات کا بھی احترام کرتے تھے۔”۔

‘میرے شوہر پاگل نہیں تھے کہ پوسٹر پھاڑتے’

جب نیلوشی سے سوال کیا گیا کہ کیا وہ جانتی ہیں کہ پریانتھا پر حملے کی وجہ کیا ہے، تو انہوں نے کہا کہ وہ ابھی تک صحیح تفصیلات سے لاعلم ہیں۔ انہوں نے لیکن خبروں میں دیکھا ہے کہ ان کے شوہر پر حملہ ایک پوسٹر کو پھاڑنے کی وجہ سے کیا گیا تھا۔

میرے شوہر 11 سال تک پاکستان میں رہے، اور انہوں نے کبھی بھی وہاں کے لوگوں یا اپنے ساتھیوں کے بارے میں شکایت نہیں”l کی۔ وہ کوئی پاگل شخض نہیں تھے کہ وہ کسی پوسٹر کو پھاڑتے۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ان کو کوئی خطرہ لاحق ہے، تو میں ان کو کبھی بھی نہ جانے دیتی۔”۔

واضح رہے کہ پریانتھا کمارا کو بچانے والے شخض ملک عدنان نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پریانتھا کو اردو یا عربی نہیں آتی تھی، تو ان کو تو معلوم ہی نہیں ہو سکتا تھا کہ کسی پوسٹر پر کیا تحریر لکھی ہوئی تھی۔ حکومت پاکستان نے غیر معمولی جرات کا مظاہرہ کرنے پر ملک عدنان کو تمغۂ شجاعت سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔

نیلوشی کمارا نے سری لنکا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے شوہر کے قتل پر انصاف کو یقینی بنائے اور کہا کہ اس کیس کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس نے حکومت پاکستان پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اس کی مکمل تحقیقات کرے اور اسے اس کے سوالات کے جوابات فراہم کرے۔

“میں نہیں چاہتی کہ یہ کیس منطقی انجام کو پہنچے بغیر ہی ختم ہو جائے۔”

A right to education, without discrimination
DAWN’s Islamabad bureau besieged by unidentified protesters
Civil Society Rallies Against killing of Blasphemy Accused in Turbat
Talks on with outlawed TLP to end impasse, says govt
Fading into Oblivion
Share This Article
Facebook Email Print
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Follow Us

OUR SOCIALS
Facebook Twitter Instagram Youtube Tiktok Whatsapp

Journalism for Human Rights in Pakistan

Voicepk.net

About Us

Voicepk.net is Pakistan ‘s first digital media platform dedicated to investigating, reporting & broadcasting human rights and legal issues happening in the country.
Read More...

Quick Link
  • Home
  • About Us
  • Our Team
  • Contact
  • Privacy Policy
© 2026. All Rights Reserved by VoicePk.net
Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?