مئی ١٦ ٢٠٢١

بیورو رپورٹ


پشاور

 مقامی اطلا عا ت کے مطابق خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع  میں افغان  طالبان ایک بار پھر متحرک ہو رہے ہیں اور  کچھ علاقوں میں وہ افغان جہاد کے لیے چندہ اکھٹا اور مقامی لوگوں کے مسائل حل کرنے کے لیے جرگوں کا انعقاد کرتے بھی دیکھے گئے ہیں.

ماہرین کا کہنا ہے کہ قبائلی  اضلاع میں طالبان کی منتشر دھڑے نئے قیادت کی سر پرستی میں دوبارہ متحد ہو رہے ہیں اور انکی کارر وائیوں میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے.حالیہ دنوں میں وزیرستان اور قبائلی علاقوں میں بڑھتے ہوئے دہشتگردی کے  واقعات اسی سلسلے کی  ایک کڑی ہے. وزیرستان ،کرم، باجوڑ اور مہمند کے قبائلی

اضلاع  میں افغان طالبان کی موجودگی کی اطلاعات آرہی ہے.

افغان جہاد کے لیے چندہ اکھٹا کرنے والے پھر منظرعام پر  آگۓ

 وزیرستان، کرم، مہمند، اور  دیر کے لوگوں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے مابین آمن معاہدے اور امریکی افواج کی انخلا شروع ہونے کے بعد ان علاقوں میں افغان طالبان کی موجودگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہاہے . سوشل میڈیا پر ایک وائریل ویڈیو  جو کہ مبینہ طور پر دیر کے علاقہ میدان میں ریکارڈ کی گئی  ہے اس میں ایک شخص  مسجد میں رمضان کے فرائض  بیان کرنے کے ساتھ ساتھ جہاد کی بھی ترغیب دے رہا ہے. اس   شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی یہ معلوم ہو سکا کی
اسکا تعلق کس تنظیم سے ہے .

مہمند، کرم اور وزیرستان کےمقامی  لوگوں کا کہنا ہے کہ وہاں پر بھی افغان جہاد کے نام پر چندہ اکھٹا کرنے کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو چکا ہے. ان سب دعوؤں کا آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں کیونکہ وہاں پر میڈیا کے نمائندوں کا آزادانہ داخلہ ابھی تک ممنوع ہے.

 وزیرستان اضلاع میں افغان طالبان کے جرگے

پشتوں تحففظ موومنٹ  کے سرکردہ رکن ننگیال بیٹنی نے دعوٰی کیا ہے کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اب بھی گڈ طالبان کے نام پر مسلح افراد کھلے عام پھر رہے ہیں. انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ  حالات ایک مرتبہ پھر بدآمنی کی جانب جا رہے ہیں.

 مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جنوبی  وزیرستان میں گزشتہ ادوار میں مولوی نذیر گروپ موجود تھا اور شمالی وزیرستان میں گل بہادر گروپ فعال تھے .گل بہادر گروپ اب بھی گڈ طالبان تصور کئے جاتے ہیں لیکن انہوں نے حکومت کے ساتھ پر آمن رہنے کا معاہدہ توڑ دیا ہے .

  پاکستانی طالبان کی موجودگی  سب سے زیادہ اس علاقےمیں رہی  ہے.اسی وجہ سے  سب سے زیادہ ملڑی آپریشنز بھی وزیرسان  میں ہوئے ہیں. لیکن ان علاقوں میں ایسے گروپس بھی ہیں  جو پاکستان کے اندر مسلح کارروائیاں نہیں کرتےتھے . ان گروپس کا عمل دخل افغانستان میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے.

 وزیرستان کا  بارڈر افغانستان کے پکتیکا اور خوست اضلاع کے ساتھ ملتے ہیں . مقامی افراد کا کہنا ہے کہ افغان طالبان اب بہت زیادہ فعال ہو چکے ہیں اور لوگوں کے درمیان تنازعات کے حل کےلئے جرگے بھی کرتے ہیں.مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ  وزیرستان میں طالبان دھڑے دوبارہ سے منظم ہو رہے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے .جس کی حالیہ مثال پانچ مئی کو شمالی وزیرستان میں  سرچ آپریشن کی ہے . اس آپریشن کے دوران تین آرمی اہلکار بشمول ایک کیپٹن, جانبحق جبکہ دو دہشتگرد ہلاک ہوئے.

ضلع کرم کے بازار میں افغان طالبان

 افغانستان می حالات کے اثرات  کافی حد تک کرم ضلع پر دیکھے جا سکتے ہیں. کرم کا افغانستان کے تین اضلاع کے ساتھ بارڈرلگتا جن میں پکتیا ، ننگرہار اور خوست شامل ہیں. مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ افغانستان سے امریکہ کا انخلا شروع ہونے کےساتھ وہاں پر افغان طالبان کی موجودگی بڑھ چکی  ہے.مقامی افراد کا کہنا ہے کہ افغان طالبان ظلع کے  صدر  بازار میں کھلے عام چلتے پھرتے دیکھے جا تے ہیں.

ضلع باجوڑ میں بڑھتے ہوۓ حملے

 باجوڑ کے ساتھ افغانستان کے ضلع  کونڑ کا بارڈر لگتا ہے جہاں پر افغان طالبان پاکستانی طالبان اور ساتھ ہی داعش کی موجودگی کی خبریں آرہی ہے.باجوڑمیں  پچھلے عرصہ کے دوران ہونے والے کارر وائیوں میں پاکستانی طالبان کیساتھ داعش نے بھی کچھ حملوں کی زمہ داری قبول کی  ہے . پاکستانی طالبان کی جانب سے بارڈرپوسٹ  پر حملے اور مارٹرگولے داغنے کی ذمہ داری  قبول کی ہے .کچھ روز قبل پاکستان کی بارڈر پوسٹ پر حملہ کیا گیا .پاکستانی فوج کے مطابق حملہ آور بارڈر کے پار سے آے تھے .

مہمند کی تحصیل خوئزئی میں  افغان طالبان کی بڑھتی موجودگی

 ضلع مہمند کا بارڈرافغانستان کے ضلع  ننگرہار کے ساتھ لگتا  ہے.یہ ضلع جماعت الاحرار کا گڑھ سمجھا جاتا تھا کیونکہ گروپ کے سربراہ کا تعلق مہمند کی تحصیل صافی سے تھا. اس ضلع میں اب پاکستانی طالبان کی موجودگی اور کارر وائیاں پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہے. لیکن مقامی لوگوں کے مطابق افغان بارڈر کے نزدیک تحصیل خوئزئی کے علاقے میں افغان طالبان کی بڑھتی ہوئی موجودگی کی خبریں سامنے آرہی ھیں .

 طالبان کے  منتشر دھڑے نئے قیادت کی سر پرستی میں دوبارہ متحد

ماہرین کا کہنا ہے کہ قبائلی اضلاع میں طالبان کی منتشر دھڑے نئے قیادت کی سر پرستی میں دوبارہ متحد ہو رہے ہیں. طالبان کے  یہ دھڑے سب سے پہلے 2014 میں جماعت الاحرار کی شکل میں تحریک طالبان پاکستان کی چھتری سے جدا ہو گئے تھے . اسکے ساتھ متعدد لیڈروں کی دراؤن حملوں میں ہلاکت  سے تحریک مزید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئی. لیکن ملا فضل اللہ کی ڈراؤن حملے میں ہلاکت کے  بعد نور ولی محسود کی قیادت میں ٹی ٹی پی  دوبارہ منظم ہونے کی اطلاعات ہیں .

 ذرائع کا کہنا ہے ٹی ٹی پی کے کئی  ناراض  دھڑے دوبارہ ٹی ٹی پی میں شامل ہو رہے ہیں. ماہرین کے مطابق دوبارہ منظم ہونے کا اثر پاکستانی طالبان کے کارر وائیوں میں اضافے کی شکل میں نظر آرہا.

فاٹا ریسرچ سنٹر کے مطابق اس سال جنوری کے مہینے میں قبائلی اضلاع میں کل 35 حملے ہوئے جس میں 12 سیکورٹی اہلکار 13 دہشتگرد اور نو عام لوگ مارے گئے جبکہ فروری کے مہینے میں ان اضلاع میں کل 28 حملے ہوئے جس میں سیکیورٹی فورسز دہشت گرد اور عام لوگوں سمیت 75افراد مارے گئے. مارچ میں کل 42 اور اپریل کے مہینے میں 34ہلاکتیں ہوئی ہیں.

  فاٹا ریسررچ سنٹر کے پروگرام منیجر منصور محسود کے مطابق ضرب عذب اور ردالفصاد ملٹری آپریشنز کے بعد 2019اور 2020 کے مقابلے میں رواں سال پاکستانی طالبان کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور آنے والے وقت میں اس کے بڑھنے کے امکانات موجود ہیں-

 انکا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں بدآمنی کے زیادہ واقعات شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ریکارڈ کئے گئے ہیں.

قبائلی  اضلاع میں بگڑتی ہوئی امن صورتحال پر وزیرستان سے ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے پانچ مئی کو صدر عارف علوی کو کھلا خط لکھا جس میں پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کی مانگ کی گئی . داوڑکا کہنا تھا کہ پارلیمان وزیرستان کی ابتر صورتحال ،طالبان کا  دوبارہ منظم ہونا  ،ٹارگٹ کلنگ کے واقعیات اور دیگر مسائل پر اجلاس میں غور کرے .دیگر اپوزیشن جماعتوں اور حکومت نے ابھی تک مشترکہ اجلاس بلانے کی حمایت نہیں کی ہے .

 

ہمارے نامہ نگار  بصیرقلندر  نے خیبر پختونخوا کے ترجمان کامران بنگش سے رابطہ کیا اور ان سے قبائلی  اضلاع میں برھتی ہوئی افغان طالبان کی سرگرمیوں کے حوالے سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے ادارے  قبائلی  اضلاع میں بھر پور طور پر امن برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہیں ..ان کا مزید کہنا تھا کہ

 قانون نافذ کرنے والے  ادارے یہ یقینی بنا رہیے ہیں کہ شدت پسند تنظیمیں دوبارہ وہاں منظم نہ ہوں. کامران بنگش نے کہا کہ پولیس کی استعداد کار میں اضافے  کے ساتھ ساتھ انہیں  جدید آلات سے لیس کیا جارہا تاکے وہ مستقبل میں کسی بھی چیلنجزسے نمت سکیں.

امریکی انخلا سے خطے میں صورتحال بدل رہی ہے اور پاکستان بڑی مشکل سےدنیا کو  باور کرانے میں کامیاب ہوا ہے کہ ملکی سطح پر دہشت گردی کی حمایت نہیں کرتا .لیکن افغان طالبان کے پاکستان میں متحرک ہونے کی اطلاعات اس تاثر کو کمزور کر سکتی ہیں .اگر حکومت تیزی سے بگڑتے حالات کو  قابو میں نہیں لاتی تو  قبائلی علاقوں کو ایک بار پھر تشدد اور خانہ  جنگی میں جھونکنے کے خدشات سچ ثابت ہو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here