اپریل ٢٧ ٢٠٢١

تحریر: احمد سعید


لاہور

 منگل کے روز لاہور کی سیشن عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست خارج ہونے پر سی آی اے پولیس نے عوام کو اداروں کے خلاف اکسانے کے کیس میں پاکستان مسلم لیگ  نون  کے رکن قومی اسمبلی جاوید لطیف کو گرفتار کر لیا ہے.
جاوید لطیف کے خلاف بیس مارچ کو  ایک شہری جمیل سلیم کی شکایت پر غداری کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا
 پاکستان مسلم لیگ نون نے جاوید لطیف کی گرفتاری کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا پارٹی کارکنان اور سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں سے حکومت کی بوکھلاہٹ صاف  ظاہر ہوتی ہے۔ پارٹی کے صدر شہباز شریف نے امید ظاہر کی کہ  کہ عدلیہ میاں جاوید لطیف کے معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کرے گی.
سینئر وکیل اور پاکستان بار کونسل کے ممبر عابد ساقی کے مطابق حزب اختلاف کے قائدین پر  اس طرح کے مقدمے بنانا حکومت کی فسطائی ذہنیت کی غمازی کرتا ہے. ان کا مزید کہنا تھا آئین آزادی اظہار رائے کی آزادی مہیا کرتا ہے اور جاوید لطیف نے اپنے آئینی حق کو ہی استعمال کیا تھا.
جاوید لطیف کو عدالت کے فیصلے سے پہلے گرفتار کر لیا گیا
جاوید لطیف کے وکیل فرہاد علی شاہ نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے مؤکل کو پولیس نے درخواست ضمانت پر فیصلہ آنے سےپہلے ہی گرفتار کر لیا تھا جوکہ ایک غیر قانونی عمل تھا. ” آج عدالت کے اندر اور باہر  میں سی آی اے پولیس کی ایک بڑی تعداد موجود تھی جس سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ پولیس جاوید لطیف کوہر حال میں گرفتار کرنا چاہتی تھی اور اس کے لئے پولیس نے ان کے دلائل ختم ہونے کا انتظار بھی نہیں کیا”
فرہاد علی شاہ کامزید کہنا تھا کہ  بلکل اسی طرح کی صورت حال جب رانا ثنا الله کی درخواست ضمانت کے موقع پر پیش آی تھی تو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے صرف اسی نقطے پر  رانا ثنا الله کی ضمانت منظور کر لی تھی کہ پولیس گرفتاری کے لئے بے چین ہے.
آج کی سماعت میں جاوید لطیف کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پولیس نے یہ کیس بد نیتی کی بنیاد پر بنایا ہے کیوں کہ ملزم کا تعلق پاکستان مسلم لیگ نون کے ساتھ ہے
جاوید لطیف کا گرفتاری سے قبل پیغام
اپنی گرفتاری سے قبل رکن اسمبلی جاوید لطیف نے ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ ” یہ ہے پاکستان جس میں آپ دہشت گردوں کو تو چھوڑتے ہیں مگر پاکستان میں خرا بیوں کس نشاندہی کرنے والوں کو غدار کہتے ہیں اور جو خرابیاں کرتے ہیں ان کو کہتے ہیں کہ آپ محب وطن ہیں.”
جاوید لطیف کا مزید کہنا تھا کہ ” اگر پاکستان کے اندر منتخب لوگوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی  خرابیوں کی نشاندہی کر سکیں اور اگر  یہ بتا سکیں کہ اداروں میں بیٹھے لوگ وزیر اعظم کے حکم پرکیا گل کھلا رہے ہیں کیا تماشا کر رہے ہیں.”
مقدمے کا پس منظر 
جاوید لطیف کے خلاف ایف آ ی آر ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کرنے کے بعد درج کی گی تھی. اس پروگرام میں جاوید لطیف نے مریم نواز کوملنے والی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مریم نواز کو کچھ ہوا تو پھر نون لیگ پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگاے گی.
اس  بعد جاوید لطیف کو  حکومتی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے بیان کو قومی سلامتی کے منافی اور ملک سے غداری قرار دیا تھا. بڑھتے سیاسی دباؤ کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ نون کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی جاوید لطیف کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان سے معافی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here