مارچ ١٧ ٢٠٢١

تحریر: حامد ریاض


لاہور

مانسہرہ پولیس نے پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتیں کے خلاف ہزارہ انٹرچینج مانسہرہ کے مقام پر تیرہ مارچ فائرنگ کرنے کے الزام میں غداری، افواج پاکستان مخالف سرگرمیوں اور اقدام قتل سمیت دیگر کئی دفعات کے تحت پرچہ درج کر لیا ہے.

پی ٹی ایم نے اس مقدمے کے خلاف جمعہ انیس مارچ کو ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے.

ایف آی آر مانسہرہ نائب صدر محمد اکرم قریشی کی مدعیت میں چودہ مارچ کو درج کی گی ہے. اکرم قریشی کے مطابق تحریک صوبہ ہزارہ کے کارکن تیس مارچ کو یوم پاکستان کی مناسبت سے ٹول پلازے پر قومی پرچم لگا رہے تھے اور وہ بطور صحافی رپورٹنگ کے لئے موقعہ پر موجود تھے.

“اچانک دو گاڑیاں ٹول پلازے پر آ کر رکی تو تحریک ہزارہ کے کچھ کارکنوں ، جو کہ محب وطن افراد تھے ،نے ان میں ایک گاڑی میں بیٹھے منظور پشتین کو پہچان کر اس کی گاڑی پر انڈوں، اینٹوں اور ڈنڈوں سے حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں گاڑیوں میں موجود افراد نے اتر کر وہاں موجود لوگوں اور صحافیوں پر سیدھی فائرنگ شروع کردی جس کی وجہ سے مجھ سمیت کئی لوگ زخمی ہو گے.”

وائس پی کے ڈاٹ نیٹ اکرم قریشی کی جانب سے کیے جانے والے دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ، اور نہ ہی مدعی نے پی ٹی ایم کے خلاف ان سنگین الزامات کو ثابت کرنے کے لئے میڈیکل رپورٹس یا تصاویر فراہم کی.

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے اگرچہ یہ جھڑپ دو سیاسی تنظیموں کے کارکنوں کے مابین ہوئی ہے ، لیکن اس میں شامل فریقین میں سے کسی نے بھی پولیس سے رابطہ نہیں کیا۔

ان تمام واقعات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مانسہرہ پریس کلب کے صدر اخلاق خان کا کہنا تھا کہ اگرچہ واقعے کے وقت وہ موجود نہ تھے لیکن وہ اپنے ساتھی صحافیوں کے لئے کھڑے ہونے کو تیار ہیں کیونکہ انھوں نے ‘کافی شواہد’ دیکھے ہیں .

” یہ افسوسناک واقعہ ہے۔ رپورٹرز پر گولیاں برسائی گی ، لیکن ہماری حمایت کرنے کے بجائے مطیع اللہ جان اور سلیم صافی سمیت متعدد نامور صحافی ہمیں بدنام کررہے ہیں”

اخلاق مزید دعوی کیا ہے کہ انہوں نے واقعے کی تفصیلات اپنے چینل کے صوبائی بیورو چیف کو ارسال کردی ہیں۔ تاہم مذکورہ بالا صوبائی بیورو چیف نے کسی بھی ایسی اطلاع کی موصولی کی تردید کی ہے.

اخلاق خان نے اس واقعے کے بعد کئی شعلہ بیان تقاریر بھی کی جن میں انہوں نے منظور پشتیں کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا.

“مدعی صحافی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں”

پی کے ڈاٹ نیٹ نے اخلاق خان اور اکرم قریشی کے دعووں کی تصدیق کے لئے مقامی صحافیوں اور مانسہرہ پریس کلب کے ممبران سے رابطہ کیا تو بعض مقامی صحافیوں کا کہنا تھا یہ دونوں افراد صحافیوں کے ایک چھوٹے سے گروہ کا حصہ ہیں جن کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی تاریخ ہے اور یہ ماضی میں بھی فرضی خبروں پھیلانے کے حوالے سے بھی جانے جاتے ہیں. ان کا مزید کہنا تھا ان کے ایک ساتھی ناصر تنولی کو کرپشن کے الزامات ثابت ہونے پر ایک معروف ٹی وی چینل سے نوکری سے نکل دیا گیا تھا.

مانسہرہ پریس کلب کے ممبروں نے یہ بھی مزید بتایا کہ اکرم قریشی اور اخلاق خان پریس کلب کے منتخب عہدیدار بھی نہیں ہیں ، اور یہ خود ساختہ طور پر خود کو صدر اور نائب صدر کہتے ہیں.

ایک ممبر نے شانخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پریس کلب کے اصل عہدیداروں نے تو منظور پشتین سے ملاقات کر کے اس واقعے پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی کیا تھا. “اگر پی ٹی ایم کے کارکنوں نے صحافیوں پر فائرنگ کی ہوتی تو پریس کلب کے لوگ ان سے ملتے ہی کیوں؟”

“بغاوت کی دفعہ ڈی سی کے کہنے پر لگائی”: پولیس

ابھی تک پولیس نے ایف آئی آر کی پیروی کے لئے کوئی کارروائی نہیں کی ہے لیکن تفتیشی افسر نے واقعے کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والے افسر ارشاد کا کہنا تھا کہ وضاحت ہے یہ بہت سنگین الزامات ہیں اور ہم اس معاملے کی تحقیقات شروع کرنے کے پابند ہیں۔

جب ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ ایف آئی آر میں غداری کے الزامات کیوں شامل کیے گئے ہیں تو ارشد کا دعوی ہے کہ پولیس نے ابتدائی طور پر ایف آئی آر میں غداری کے الزامات شامل نہیں کیے تھے لیکن مانسہرہ کے ڈپٹی کمشنر نے خصوصی طور پر ایسا کرنے کے لئے کہا تھا۔ ڈی سی مانسہرہ نے تبصرہ کرنے کے لئے ہماری درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ مجموعہ ضابطہ فوجداری کی شق ١٩٦ کے تحت ریاست کے خلاف جرائم ( جن میں بغاوت بھی شامل ہے) کی ایف آئ آر صرف متلقہ صوبائی یا وفاقی حکومت مجاز افسر کے ذریعے ہی درج کرا سکتی ہے.

پی ٹی ایم کا موقف

وائس پی پی ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے پی ٹی ایم کے سینئر رہنماؤں نے ایف آئی آر کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔ علم زیب محسود جو کہ پی ٹی ایم کے مرکزی رہنما ہیں کا کہنا تھا کہ منظور پشتیں ساتھیوں کے ساتھ بٹگرام ایک جنازے میں شرکت کے لئے گئے تھے.

” واپس جاتے ہوئے مانسہرہ انٹرچینج پر ان کی کاریں آہستہ ہوئی تو شرپسندوں کے ایک گروپ نے منظور پشتین کی گاڑی پر پتھراؤ کرنا شروع کردیا۔

صورتحال کو بگڑتا دیکھ کر دوسری گاڑی میں موجود کچھ محافظوں نے اپنے دفاع کے لئے اور ہجوم کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی، سیدھا فائر کرنے والا الزام مضحکہ خیز ہے.”

“آپ ویڈیو میں دیکھ سکتے ہیں کہ یہ لوگ تصادم کے لئے پوری طرح تیار تھے۔ اگر وہ جھنڈے لہرانے کے لئے ٹول پلازہ پر جمع ہوے تھے اور تصادم ایک اچانک واقعہ تھا تو وہ پی ٹی ایم مخالف پوسٹر کیوں اٹھاے ہوئے تھے؟”

عالم زیب نے الزام عائد کیا کہ یہ پورا واقعہ ملک کی طاقتور فوج کے کہنا پر بنایا گیا تاکہ پی ٹی ایم کی پر امن تحریک کو بدنام کیا جا سکے-

انہوں نے خبردار کیا کہ پی ٹی ایم کو مزید دیوار سے نہ لگایا جاے کیوںکہ اس طرح کی حرکتوں سے ان کے ارادے ہرگز کمزور نہیں ہو سکتے

“یہ پہلا موقع نہیں جب پی ٹی ایم کے سینئر رہنماؤں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہو۔ لیکن ریاست کو یہ جان لینا چاہئے کہ ہم نے ماضی میں سر جھکانے سے انکار کیا گیا تھا اور آئندہ بھی وہ یہ کام جاری رکھے گا۔”

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here