فروری ١١ ٢٠٢١

تحریر: احمد سعید


لاہور

گزشتہ روز کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شدید شیلنگ کے بعد بالاخر حکومت اور  احتجاجی سرکاری ملازمین کے درمیان تنخواہوں میں اضافے اور دیگر معاملات پر مزاکرات کامیاب ہو گئے.
طے پانے والے معاہدے کے تحت گریڈ 1 سے 19 کے وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد “ایڈہاک”  اضافہ کیا جاے گا جو کے کابینہ کی منظوری کے بعد  فوری طور نافذ العمل ہو جاے گا.
ان اقدامات کا اعلان وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوے کیا.
اس کے علاوہ حکومت نے گرفتار شدہ تمام سرکاری ملازمین کو بھی فی الفور رہا کرنے کا اعلان بھی کیا ہے اور ان کے خلاف درج مقدمات بھی واپس لے لئے ہیں.
.
سرکاری ملازمین کے مطالبات آخر کیا تھے
.
پچھلے ایک سال سے اپنی تنخواہوں میں اضافے اور پے سکیل اپ گر یڈ شن کے لئے جد وجہد کرنے والے سرکاری ملازمین آج کے اعلانات کو کامیابی قرار دیتے ہیں. پچھلے سال کے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا جب کہ مہنگائی میں تقریباً دس فیصد اضافہ ہوا تھا، جس کے باعث سرکاری ملازمین میں شدید بے چینی پائی جاتی تھی.
اس کے علاوہ پاک سیکٹریٹ میں مخلتف وزارتوں میں  تعینات سرکاری ملازمین عرصہ دراز سے اس بات پار بھی احتجاج کر رہے تھے کہ ان کی تنخوائیں دیگر اداروں جیسے کہ سپریم کورٹ اور ایف آی اے میں کام کرنے والے افراد سے کافی کم ہیں اور وہ حکومت سے اس تفریق کا خاتمہ چاہتے تھے
ملازمین کا سب سے دیرینہ مسئلہ اپ گریڈیشن اور ترقیوں کا تھا جس کے حل کے لئے آج وزیر دفاع نے کمیٹی بنانے اور میریٹ پر ترقیاں دینے کا اعلان کر دیا ہے
.
کیا وفاقی وزیر خزانہ تنخواہوں میں اضافے کے مخالف تھے ؟
.
ماضی میں عام طور پر سرکاری ملازمین سے تنخواہوں کے معاملے پر وزراے خزانہ ہی مزاکرات کرتے رہے ہیں مگر اس دفعہ مذاکرتی کمیٹی میں وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ شامل نہیں تھے.
آج ٹی وی کے پروگرام سپاٹ لائٹ میں گفتگو کرتے ہوئے احتجاجی ملازمین کے نمائندے عاشق خان نے انکشاف کیا تھا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم نے شروع میں ان کے تمام مطالبات کو درست تسلیم کرتے ہوئے تنخواہوں میں اضافے کا وعدہ کیا تھا مگر جب حکومتی ٹیم نے اس حوالے سے عبدالحفیظ شیخ سے بات کی تو انہوں نے فوری طور پر اضافے کی منظوری دینے سے انکار کر تے ہوے معاملے کو بجٹ تک موخر کرنے اور پے کمیشن کو ریفر کرنے کا مشورہ دیا.
 لیکن دس فروری کے ہنگامہ خیزی اور پر تشدد واقعات کے بعد حکومت نے ملازمین کے ساتھ حتمی مذاکرات کر کے فوری طور تنخواہوں میں اضافے کا فیصلہ کر لیا جس کی وزیر اعظم عمران خان نے منظوری بھی دے دی ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here