نومبر /٣٠/ ٢٠٢٠

تحریر: فرزانہ علی


پشاور

شمالی وزیرستان کے دوسرے بڑے شہر میرعلی میں ایک ہفتے کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے دوسرے واقعے میں ایک ہی علاقے کے چار قبائلی عمائدین کو دن دیہاڑے میرعلی بازار میں قتل کردیا گیا۔ ملزمان واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔واقعے میں خیسور سے تعلق رکھنے والے چار عمائدین کی گاڑی پر کالے شیشوں والی ایک گاڑی سے اندھا دھند فائرنگ کی گئی۔واقعے کے بعد ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مقتولین کی گاڑی کو بہت قریب سے نشانہ بنایا گیا اور کلاشنکوف کے کئی راونڈز گاڑی پر خالی کئے گئے۔ جاں بحق ہونیو الوں میں ملک میر سادے خان ، ملک رضا ، ملک عابد رحمن اور ملک عمر خان ساکنان علی خیل خیسور شامل ہیں۔

تین دن قبل بھی میرعلی کے بازار میں ایسی ہی ٹارگٹ کلنگ کی ایک واردات میں ایک گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایف ڈبلیو او کے تین ملازمین سمیت چار افرا د قتل کر دئیے گئے تھے۔ شمالی وزیرستان میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس سے مقامی لوگوں میں خوف و ہراس کی ایک لہر دوڑ گئی ہے۔ حیرت انگیز طور پر اب تک کسی بھی ٹارگٹ کلنگ کے واقعے کے ملزمان کو گرفتار نہیںکیا جا سکا۔علاقے میںرواں سال ٹارگٹ کلنگ کے رپورٹ واقعات کی تعداد 57بتائی جاتی ہے-

مقامی شخص عادل داوڑ جو کہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں نے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ آپریشن ضرب عضب کے بعد وزیرستان کو کلئیر کر دیا گیا تھا اور ہم سب جو آئی ڈی پیز بن کر اپنے علاقے چھوڑ کر گئے تھے واپس اپنے علاقوں میں آگئے ۔علاقے میں امن تھا لیکن کسی کو اسلحہ رکھنے کی اجازت نہ تھی ۔ سات سے آٹھ ماہ کے بعد اچانک ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔امن کی بحالی کے بعد کے تین سالوں کو اگر دیکھیں تو اب تک ٹارگٹ کلنگ کے 275 واقعات ہو چکے ہیں لیکن کسی ایک واقعے کے قاتل کو بھی ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا ۔

عادل داوڑ نے سوال اُٹھایا کہ لگ بھگ بارہ ہزار فورسز کی علاقے میں موجودگی کے باوجود ایسے واقعات کا ہونا کسیے ممکن ہے اور پھر سر بازار قاتلوں کا قتل کے بعد فرار ہو جانا اُس سے بھی بڑا سوال ہے جس کا جواب کوئی نہیں دیتا ۔ انھوں نے کہا کہ مقامی افراد کے پاس تو اسلحہ نہیں پھر یہ کون لوگ ہیں جو نان کسٹم پیڈ گاڑیوں میں اسلحے کے ساتھ گھوم رہے ہیں اور لوگوں کو مار رہے ہیں ۔انھوں نے بتایا کہ اس سوال کے جواب کے لئے مقامی افراد نے کئی بار دھرنے دئیے احتجاج کیا لیکن کوئی بھی شنوائی نہ ہوئی بلکہ سوال اُٹھانے والوں پر کریک ڈاون کیا گیا ۔

یہ سوال کہ کیا ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والوں میں کوئی مماثلت ہے تو عادل داوڑ نے بتایا کہ اُن خاص لوگوں کو مارا جا رہا ہے جو کہ ریاست کے ساتھ ہوتے ہیں تاکہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ کاروائیاں کرنے والے دہشت گرد ہیں جو کہ ریاست کے خلاف ہیں۔عادل نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں امن کی خرابی کی وجہ سے کاروبار بھی متاثر ہورہے ہیں لوگوں میں خوف ہے کہ کہیں پھر سے آپریشن شروع نہ ہو جائے اس لئے لوگ اب کاروبار کو پھیلاتے ہوئے بھی ڈرتے ہیں-

یوتھ آف وزیرستان کے صدر اسد اللہ سے بھی جب وائس پی کے ڈاٹ نیٹ نے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ میر علی چوک کے قریب اُنکا دفتر ہے وہ واقعے کے وقت اپنے دفتر میں موجود تھے ۔ اچانک فائرنگ سے علاقہ گونج اُٹھا ۔ اور وہ دفتر سے نکل کر جائے وقوعہ پرپہنچے تو پتہ چلا ہے خیسور کے عمائدین کو نشانہ بنایا گیا ہے ۔تین افراد جابحق ہو چکے تھے جبکہ ایک زخمی تھا ۔مقامی افراد کے ساتھ مل کو اُس زخمی کو چینگچی کے زریعے ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ دم توڑ گیا ۔

واقعے کے کئی گھنٹے بعد بھی پولیس یا سیکورٹی فورسز کے افردا جائے وقوعہ پر نہ پہنچے ۔بلکہ لاشوں کو بھی الخدمت کی ایک ایمبولینس جبکہ دوسری پرائیویٹ گاڑی کے زریعے خیسور منتقل کیا گیا ۔اسد اللہ کے مطابق واقعے کی جگہ سے 400یا 500 میٹر کے فاصلہ پر میر علی کیمپ جبکہ 300میٹر کی دوری پر چیک پوسٹ ہے ۔انھوں نے بتایا کہ ایک ماہ میں یہ چوتھا واقعہ ہے جسمیں مختلف لوگوں کو ٹارگٹ کیا گیا ہے ۔

اسد اللہ نے کہا کہ پہلے ایسے واقعات کی ذمہ داری طالبان گروپ قبول کرتے تھے لیکن اب تو یہ بھی نہیں ہوتا ساری رپورٹس نامعلوم افراد کے خلاف درج ہوئی ہیں جنکا پھر کچھ پتہ نہیں چلتا ۔اس سارے میں معاملے میں پولیس کہاں ہے یہ ہمارا اگلا سوال تھا جسکے جواب میں اسد اللہ نے کہا کہ پولیس اس معاملے میں بے اختیار ہے ۔ان کے پاس صرف ایک ہی اختیار ہے اور وہ ہے چیک پوسٹ پر بھتہ لینا ۔

اسداللہ نے بھی عادل داوڑ کے بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بڑھتے ہوئے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات سے مقامی افراد میںخوف اور ڈپریشن بڑھ رہا ہے ۔ جسکا براہ راست اثر نہ صرف معاشرتی بلکہ معاشی حالات پر پڑ رہا ہے۔ وائس پی کے ڈاٹ نیٹ نے پولیس اور انتظامیہ کے ذمہ داروں سے رابطہ کرے انکی رائے لینے کی بھی کوشش کی لیکن بتایا گیا کہ وہ کسی جرگے میں شرکت کی وجہ سے دفتر میں موجود نہیں اور آج ان سے رابطہ نہیں ہو سکتا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here