٢٧ اکتوبر ٢٠٢٠

تحریر: فرزانہ علی


پشاور

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھنے والی سپین جماعت پر آئی ای ڈی دھماکہ پشاور میں فرقہ واریت کی آگ بھڑکانے کی مزموم کوشش کی صورت میں سامنے آیا۔ افغانستان سے تعلق رکھنے والے شیخ رحیم اللہ حقانی جن پر اس سے قبل بھی تین بار قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں کو اس بار مسجد کے اندر تدریس کے دوران بچوں کی موجودگی میں نشانہ بنایا گیا۔دیر کالونی کی سپین جماعت اور اسکے ساتھ واقع مدرسہ زبیریہ کئی سالوں سے افغانستان اور پاکستان کے قبائلی اضلاع سمیت دوسرے صوبوں سے آنیوالے طلباء کو درس وتدریس دینے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔مدرسہ اور مسجد میں تدریس حاصل کرنیوالے 1100سے زائد طلباء میں سے کچھ مدرسہ زبیریہ میں جبکہ اکثریت کا قیام قریبی مدارس اور پرائیویٹ کمروں میں ہوتا ہے۔

منگل کی صبح مسجد میں ہونے والے دھماکے کے وقت 400 سے زائد طلباء حدیث کی تعلیم میں مشغول تھے جن میں اکثریت کی عمر یں20سے 28سال کے قریب بتائی جاتی ہیں جبکہ وہاں پر موجود تین بچوں کی عمریں بالتریب 8،9اور 10 بتائی گئی ہے جن کا تعلق وزیرستان اورہنگو سے تھا۔دھماکے میں زخمی ہونیوالے 26 طلباء کا تعلق افغانستان سے ہے، 14کا تعلق قبائلی اضلاع،پانچ بلوچستان جبکہ 19کی شناخت تا دم تحریر نہیں ہو سکی۔دھماکے میں زخمی ہونیوالے کچھ طلباء کا تعلق خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں سے بھی ہے۔

دھماکے میں جاں بحق طلباء میں 28سالہ زبیر کا تعلق افغانستان جبکہ چار کا تعلق قبائلی اضلاع سے تھا جبکہ تادم تحریر تین کی شناخت نہیں ہوسکی۔ دھماکے میں زخمی ہونیوالے ایک طالبعلم نے شناخت ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ دو روز قبل علاقے کی مسجد میں سیکیورٹی سخت کرنے کے لئے اعلانات بھی کئے گئے تھے اور دو روز سے درس کیلئے آنیوالوں کے شناختی کارڈ بھی چیک کئے جاتے تھے۔

کابل سے تعلق رکھنے والے طالب علم حیات اللہ نے وائس پی کے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مدرسے میں 1100 سے 1200 طلباتدریس کے لئے موجود ہوتے ہیں ۔سب ایک ہی جگہ بیٹھتے ہیں ۔ہم نے ابھی ایک کلاس ختم ہی کی تھی کہ اچانک دھماکہ ہوا اور پھر آنکھ ہسپتال میں کھلی ۔

دھماکے کے زخمی ہونیوالے مدرس شیخ رحیم اللہ حقانی کو وہاں سے منتقل کرنے کے بعد قریبی مدرسے کی سیکیورٹی سخت کردی گئی۔خیبرپختونخوا پولیس کے سربراہ ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کا اقرارکیا کہ عمومی خطرہ تو ضرور موجود تھا لیکن اس علاقے یا مسجد کیلئےکوئی خاص اطلاع نہیں تھی۔انہوں نے اس موقع پر چارسدہ سے متعلق ایک واضح تھرٹ ہونے کا بھی اقرار کیا.

آرمی پبلک سکول کے واقعہ کے 6سال بعد ایک بار پھر مدرسے کے طلباء کو نشانہ بنایا جانا جہاں ایک طرف حکومت وقت کیلئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے وہاں پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ کے لئے بھی ایک پیغام ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here