پشاور ہائی کورٹ میں خواتین کے لئے بنائے گئے حصے میں بیٹھی حلیمہ بی بی چار سال سے بیٹے کی بازیابی کے لئے کئی دروازے کھٹکھٹانے کے بعد اب صوبے کی سب سے بڑی عدالت سے  انصاف ملنے کی اس لگاے اس کے لگا رہی ہیں۔ 

حلیمہ بی بی کا بیٹا سہیل چارسدہ کے ایک مدرسے کا طالب عمل تھا۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد سہیل نے مدرسے میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی پرائیویٹ تعلیم بھی حاصل کرتا رہا۔ مدرسے میںپانچ  درجے تک کی تعلیم کے حصول کے بعد وہ مزدوری کرنے سعودی عرب چلا گیا۔ ڈھائی سال بعد گھر والوں نے سہیل کی شادی اس کی چچا زاد  سے طے کر دی اور وہ شادی کی غرض سے واپس وطن آیا لیکن اس کے ولیمے کے دن 23 جنوری 2017 کو  سپہ پہر چار بجے اچانک کچھ لوگوں نے گھر پر دھاوا بولا اورسہیل کو اپنے ساتھ لے گئے۔ اغوا کاروں نے جاتے ہوئے گھر میں موجود ڈھائی لاکھ کی رقم بھی لے کے گئے تھے۔ 2017 سے لاپتہ ہونے والا سہیل آج تک واپس نہ آسکا۔ حلیمہ بی بی نے وائس  پی کے ڈاٹ نیٹ  سے بات چیت کرتے ہوئے  کہا کہ سہیل ایک عام سا نوجوان تھا بیٹوں میں دوسرے نمبر پر ہونے کے باوجود بڑے بھائی سے زیادہ زمہ دار تھا۔ اُس نے ڈھائی سال سعودیہ میں محنت مزدوری کر کے گھر کے حالات بدلنے کی کو شش کی۔ بیمار والد اور گھر کے حالات میں اس نے بہن بھائیوں کا بڑا ساتھ دیا۔

یہ صرف ایک سہیل کی نہیں  بلکہ ان جیسے ہزاروں نوجوانوں کی کہانی ہے جو گذشتہ دو دہائیوں میں لاپتہ افراد کی فہرست کا حصہ بنے جس میں سینکڑوں کا کئی کئی سال گزرنے کے باوجود کوئی سراغ نہ مل سکا۔ پشاور ہائی کورٹ میں لاپتہ افراد کے کیس سنے جاتے ہیں جس میں خیبر پختونخوا اور قبائلی اضلاع کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے پیاروں کی گمشدگی کی کہانیاں لے کر آتے ہیں۔ حلیمہ بی بی بھی ان میں سے ایک ہیں جسکا سہیل چار سال سے لاپتہ ہے لیکن کوئی اس کی موجودگی کی نشاندہی کو تیار نہیں۔ سہیل کی کہانی میں جہاں ایک طرف تڑپتی ماں ہے تو دوسری طرف ایک روز کی دلہن جو چار سال سے کشمکش میں ذندگی گزار رہی ہے کہ جس شخص کے ساتھ اس نے زندگی گزرنے کے سپنے دیکھے تھے وہ کبھی واپس بھی آے گا یا نہیں۔
 
حلیمہ بی بی کے مطابق سہیل نے کبھی ان سے یا دیگر گھر والوں سے کوئی ایسی بات نہیں کی تھی جس سے لگے کہ وہ جہادی سرگرمیوں کا حصہ رہا ہے لیکن ایک بار اُوپر کے علاقوں سے دو لاشیں آئیں جن کے جنازے میں شرکت کے لئے سہیل بھی گیا۔ “واپسی پر اس نے کہا کہ اللہ کی راہ میں شہادت کا بڑا اجر ہے لیکن میں نے اُسے سمجھایا کہ اب جہاد کا زمانہ نہیں اس لئے اس طرح کی باتیں مت کرو جس کے بعد اُس نے پھر کبھی اس طرح کی بات نہیں کی۔”

حلیمہ نے بتایا کہ ایک طرف بیٹے کا کچھ اتا  پتہ نہیں اور دوسری طرف بہو کے گھر والے اُس کی شادی کہیں اور کرانا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق سہیل کا زندہ یا مردہ ہونے کا پتہ نہیں تو کیسے اس کے انتظار میں لڑکی کو بٹھائے رکھیں۔حلیمہ کا کہنا تھا کہ بہو کے گھر کے والے مولویوں سے فتوی لے رہے ہیں تاکہ انکی بیٹی آزاد ہو جائے۔ آنسوں سے لبریز آنکھوں اور سسکیوں کے درمیان حلیمہ مسلسل سہیل کی واپسی کی دُعا اور التجا کرتی رہی۔ انہوں  نے بتایا کہ اس کے گاوں والے کہتے ہیں کہ تم اپنی بہو کی شادی دوسرے بیٹے سے کر دو تاکہ معاملہ گھر میں رہ جائے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتی کیونکہ وہ سہیل کی بیوی ہے اور مجھے یقین ہے کہ میرا بیٹا زندہ ہے. “کل سہیل واپس آگیا اور اُسکی بیوی کسی اور کی بیوی ہو تو کیا انجام ہو گا۔میں  نے عدالت سے بھی درخواست کی ہے کہ ایک بار صرف سہیل کی جھلک دکھا دیں تاکہ اُس کے ذندہ ہونے کا بہو اوراُس کے گھر والوں کو ثبوت دکھایا جا سکے”۔

پشاور ہائیکورٹ کے ایڈوکیٹ شبیر حسین گگیانی نے وائس پی کےڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ جتنے بھی کیسز اُن کے پاس آئے اُن لاپتہ افراد پر کوئی الزام، شکایت یا ایف آئی آر نہیں تھی فورسز نے شک یا جاسوسی کی اطلاع کی بنا پر اُن افراد کو ان کے گھروں یا کام کی جگہ سے اُٹھایا تھا۔ شببر حسین کے مطابق لاپتہ افراد کو آج تک پتہ نہیں کہ اُن کے اوپر کیا الزام ہے۔ دوسرے اور تیسرے درجے میں انٹرمنٹ سنٹر اور ملٹری کورٹ کے کیسز آئے لیکن وہاں بھی کوئی ایف آئی آر یا پرائیویٹ الزام یا شکایت نہ تھی۔ سیکورٹی فورسز کی طرف سے بتایا گیا کہ ان کے پاس اُس فرد کے کسی کاروائی میں ملوث ہونے یا دہشت گردوں سے رابطے کے شواہد موجود ہیں۔ “ان کیسز میں زیادہ تر افراد کا تعلق سوات ،دیر ،خیبر ،مہمند ،اورکزئی اور ہنگو سے ہے ۔اب پشاور ،مردان ،چارسدہ اور صوابی کے کیسزبھی آرہے ہیں لیکن ان کا موجودہ پتہ اگر پشاور ہے تو مستقل پتہ خیبر یا مہمند کا ہوتا ہے”۔

شبیر حسین گگیانی سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا ان لاپتہ افراد میں سے کوئی رہا بھی ہوا تو اانھوں نے کہا کہ فیڈریشن کے زیر انتظام اداروں میں آج   تک ایسا نہیں ہوا کہ کسی  بندے کو رہا کیا گیا ہو۔البتہ پولیس یا انسداد دہشت گردی والوں نے جن کو اغوا برائے تاوان ،یا بم وغیرہ نصب کرنے کے الزام میں گرفتار کیا اور جب وہ عدالتوں سے بری ہوئے تو انھیں پھر اُٹھایا گیا جو بعد میں ثبوت نہ ہونے پر چھوڑ دئیے گئے۔ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن پر بات کرتے ہوئے شبیر حسین گگیانی نے کہا کہ اب چونکہ کے قبائلی اضلاع کا انضمام ہو چکا ہے اس لئے اس قانون کے رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے ۔اور نہ ہی انٹرمنٹ سنٹرز کی  ضرورت ہے ۔ “انٹرمنٹ سنٹرز کو سب جیل میں تبدیل کیا گیا ہے اور آئی جی جیل خانہ جات کوکہا گیا ہے کہ سکروٹنی کمیٹی بنائی جائے جو کہ دہشت گردی میں ملوث افراد کا ٹرائل کرے اورجو قصوروار ہیں انھیں سزا دی جائے جبکہ جو بے گنا ہیں انھیں چھوڑ دیا جائے ۔لیکن حکومت نے اس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اورکیس پر 7 روز کی سماعت کے بعد کچھ معاملات ایسے ہوئے کی سماعت آج تک ملتوی ہے” شبیر حسین گگیانی کے مطابق  اُس وقت اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ پختونخوا کے نوٹی فائیڈ 45 انٹرمنٹ سنٹرز میں 8 ہزار افراد قید ہیں۔ان افراد کے خاندانوں نے کئی درخواستیں بھی دیں کہ سماعت کا دوباری آغاز کیا جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here