Featured Image
سپریم کورٹ نے کورونا وائرس کی  روک تھام کے سلسلے میں اٹھاے گئے

 اقدامات پر لئے گئے  ز خود نوٹس کی سماعت کے دوران حکومتی کار گردگی پر بہت سے اعتراضات اور سوالات اٹھا دیے.

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی براۓ صحت ظفر مرزا کی صلاحیت اور اہلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے انھیں عہدے سے  ہٹانے کازبانی  حکم دیا.

مگر اس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت سے گزارش کی کہ موجودہ صورت حال میں ظفر مرزا کو عہدے سے ہٹانا تباہ کن ہوگا اور یہ کہ کسی مشیر اور معاون خصوصی کوہٹانے کا اختیار وفاقی حکومت کا ہے اس لئے یہ فیصلہ  وفاقی حکومت پر ہی چھوڑ دیا جاے.

بعد میں لکھوا ے جانے والے عدالتی حکم نامے میں ظفر مرزا کو عہدے سے الگ کرنے کے حوالے سے کوئی ذکر یا حکم موجود نہیں تھا. عدالت نے سماعت بیس اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے تمام صوبائی اور گلگت بلتستان کی حکومتوں سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے رپورٹ طلب کرلی.

اس حوالے سے وائس پی کے ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے سینئر وکیل اور پاکستان بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین احسن بھون کا کہنا تھا کے عدالتی ریمارکس حکومت کے لئے ایک وارننگ تھی کے انھیں کورونا کی روک تھام کے لئے مزید اقدامات کرنے چاہئیں.

احسن بھوں کا کہنا تھا کے یہ غیر معمولی حالات ہیں اس لئے سپریم کورٹ بھی زیادہ ایکٹو کردار ادا کر رہی ہے.
“سپریم کورٹ کی آبزرویشن صرف حکومت کی توجہ مسائل کی طرف دلوانے کے لئے تھی، اور اگر حکومت ان ریمارکس کے باوجود بھی ظفر مرزا کو نہیں ہٹاتی تب بھی حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کروائی عمل میں نہیں لائی جا سکے گی.”

جب اس حوالے سے اپوزیشن کا موقف معلوم کرنے کے لئے پاکستان مسلم لیگ نون کے سینیٹر پرویز رشید سے رابطہ کیا تو انکا کہنا تھا چونکہ  عدالت نے ظفر مرزا کے خلاف باتیں اپنے ریمارکس میں کہی ہیں اور انھیں حکم کا حصہ نہیں بنایا تو اس لئے وہ اس پر تبصرے سے گریز کرنا چاہئیں گئے.

تاہم پاکستان پپلز پارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے اس معاملے پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا” آج کے ظفر مرزا کو ہٹانے کا فیصلہ تصدیق کرتا ہے عدالت عظمیٰ کی از خود نوٹس کے دائرہ کار پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت

ہے.  اگر ایسا اب نہ کیا گیا تو کوئی بھی حکومت کام کرنے کے قابل نہیں رہے گی.”

واضح رہے کے دسمبر میں اپنے عہدے کا حلف اٹھانے والے چیف جسٹس گلزار احمد کا یہ پہلا از خود نوٹس تھا