یورپی یونین نے پاکستان میں ہونےوالی انسانی حقوق کی پامالیوں اور شہری آزادیوں پر قدغنییں لگنے پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

 فروری ١٠ کوجنرلائزد سکیم برائے ترجیحات (جی ایس پی) کے متعلق شائع کی جانے والی یورپی یونین کی عالمی رپورٹ میں بتائے گئے مسائل پر قابو نہ پانے کی صورت میں پاکستان کو موجودہ معاشی بحران سے نمٹنے میں مذید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جی ایس پی کا مقصد ترقی پذیر ممالک کو یورپ میں تجارت کی آسان سہولیات دینا ہوتا ہے تا کہ ان ممالک کے تجارتی خسارے میں کمی لائی جا سکے۔ جی ایس پی پلس مراعات حاصل کرنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کو عالمی معیار کے مطابق انسانی حقوق، مزدوروں کی حقوق، ماحولیاتی تبدیلی کے مطابق پالیسیاں اور بہتر گورننس جیسی چیزوں پر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یورپی یونین کے مشن نے گزشتہ سال پاکستان کا دورہ کیا اور پاکستان کی گڈ گورننس، انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ سمیت 27عالمی کنونشنز پر عملدرآمد کا جائزہ لیا تھا۔

یورپی یونین نے پاکستان کو اپنے ١٠ نکاتی مطالبات پیش کیے جن پر جون ٢٠٢٠ء تک عملدرآمد کرنے کا کہا گیا تھا اور مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اظہارِ رائے کی آزادی کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کرے، صحافیوں، وکلا، انسانی حقوق کے کارکنوں کے قتل کو روکا جائے اور اُنکے کیسز کی تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے، این جی اوز کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جائے اور انٹرنیشنل این جی اوز کی رجسٹریشن پالیسی کا ازسر نو جائزہ لیا جائے، سزائے موت کے قانون کو ختم کیا جائے اور اس حوالے سے قانون میں تبدیلی کیلئے قانون سازی کی جائے، چائلڈ لیبر اور جبری مشقت کے خاتمے کیلئے عالمی چائلڈ لیبر قوانین پر عملی اقدامات کئے جائیں، لیبر قوانین کے تحت لیبر ایسوسی ایشن بنانے کی آزادی دی جائے اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اور اسپیشل اکنامک زونز میں قائم فیکٹریوں میں محنت کشوں کی صحت اور تحفظ کو یقینی بنایا جائے، نیشنل کمیشن آف چائلڈ رائٹس، مینارٹیز کمیشن، کمیشن آف اسٹیٹس آف وومن، شماریات بیورو اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کو مضبوط اور آزاد ادارہ بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔

جی ایس پی کی تازہ ترین رپورٹ میں پاکستان کے متعلق بتایا گیا ہے کہ موجودہ حکومت کہ زیر سایہ یورپی یونین کی جانب سے پیش کیے گئے بہت سےاہم ترین نکات پر عمل درآمد نہیں کیا جا سکا جس میں پشتون تحفظ موومنٹ کے مطالبات میں سے ایک مطالبہ بھی شامل ہے۔

اس مطالبے کے تحت جبری طور پر گمشدہ کیے گئے افراد کے لیے ٹروتھ اینڈ ریکونسلی ِیشن کمیٹی کاقیام ہونا چاہیے اور تشدد کی روک تھام پر فوری اقدامات

اس کے علاوہ رپورٹ میں قومی سلامتی کے نام پر اظہار رائے پر پابندی لگا کر تنقیدی آوازوں کو دبانے، بچوں سے سخت مزدوری لینے، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کے ممبران کی بروقت تقرری نہ ہونا، سول سوسائٹی آرگنازیشنز کے مشکلات پیدا کرنے، کرپشن پر قابو پانے کے لیے نیب کو آزادانہ طور پر کام نہ کرنے دینے جیسے نکات پر زور دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں عورتوں کے ساتھ کیے جانے والے امتیازی سلوک اور حملوں جس میں قتل، ریپ، جنسی تشدد، زبردستی شادی کرنا اور جبرن مہذب بدل دیے جانے جیسے بڑھتے واقعات کی بناء پر ورلڈ اکنامک فورم کی جناب سے جاری کردہ، صنفی فرق کی عالمی فہرست میں بھی پاکستان دوسرے نمبر پر سب سے بدترین ملک رہا ہے، جبکہ اس کی روک تھام کے لیے قائم اداروں پر نہ ابھی تک توجہ دی جارہی ہے اور نہ ہی فنڈز بروقت فراہم کیے جارہے ہیں جس پر فوری اور شدید توجہ کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ اس اسکیم کے تحت، ٢٠١٦ اور ٢٠١٨ کے دوران بہت بڑے پیمانے پر تجارت ہو چکی ہے، اگر جون ٢٠٢٠ تک پاکستان ان نکات پر کیے گئے وعدے پورے نہیں کرتا تو قومی خزانے کو ہر سام کئی ملین پاوئنڈز کا دھجکہ لگ سکتا ہے۔